لالٹینوں کی روشنی میں رنگوں کا کھیل، اور ایک کلپ بورڈ کی رکاوٹ
دریا کے کنارے لالٹینوں کے میلے میں لوگ تنگ راستے پر ایک قطار میں چل رہے تھے۔ہر چند قدم بعد ہر شخص اپنے پاس والا چمکدار رنگین چھلا پڑوسی سے بدلتا، تاکہ روشنی کا نقشہ چلتا رہے۔ایک منتظم کلپ بورڈ لے کر بیچ بیچ میں کسی کو روک دیتا، اور وہیں سب ٹوٹ سا جاتا۔
یہ قطار ایسے ننھے ذروں جیسی ہے جو پاس پاس رہ کر اپنا ربط آگے پھیلاتے ہیں۔چھلا بدلنا اس ربط کو دور تک لے جاتا ہے۔کلپ بورڈ والی جانچ صرف دیکھتی نہیں، دھکا بھی دیتی ہے، آدمی کو ایک لمحہ روک کر وہیں سے دوبارہ چلانا پڑتا ہے۔سبق یہ کہ بانٹنے سے ربط بڑھتا ہے، بار بار ٹوکنے سے سکڑتا ہے۔
جب چھلے تیزی سے بدلتے اور جانچ کم ہوتی، تو روشنی کا نقشہ پوری قطار میں جڑ سا جاتا۔جانچ بہت زیادہ ہو تو نقشہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں رہ جاتا، کیونکہ لمبی کڑی بننے سے پہلے ہی ٹوٹ جاتی۔درمیان میں ایک نازک حالت بھی تھی، ربط آہستہ آہستہ بڑھتا، پھر رک کر دوبارہ جڑتا۔
پھر سب کو ایک بہت تنگ پل پر سنگل فائل کر دیا گیا، اور منتظم کہیں بھی جانچ کر سکتا تھا۔یہاں جھگڑا اٹھا کہ بہت لمبی قطار میں کیا ہوگا۔ایک گروہ کہتا تھا ایک حد کے نیچے جانچ کم رہے تو بڑا جڑا ہوا نقشہ قائم رہتا ہے، بس بدلاؤ دیر سے دکھتا ہے۔دوسرا کہتا تھا تھوڑی سی جانچ بھی آخرکار جیت جاتی ہے، بڑے نقشے کو عارضی بنا دیتی ہے۔
کسی نے نرم جانچ کا طریقہ نکالا۔منتظم صرف چھلے کا رنگ چپکے سے دیکھ لے، ایسے کہ بدلنے کا اصول نہ ٹوٹے اور کسی کو روکنا نہ پڑے۔پھر پورا قصہ یاد رکھنا ضروری نہیں رہتا۔صرف یہ لکھنا کافی ہے کہ کون سا مقام کس مقام سے کتنا جڑا ہے، اور ہر جانچ اس فہرست میں ایک سیدھی سی تازہ کاری کر دیتی ہے۔
پھر ایک اور بات کھلی۔کبھی جانچ ہوتی ہی نہیں، بس ایک لگایا ہوا اصول کچھ قدموں کو چپکے سے مہنگا کر دیتا ہے۔لوگ رکے بغیر بھی آہستہ آہستہ پل کے ایک سرے کی طرف جھکنے لگتے ہیں، اور آخر میں بھیڑ وہیں جمع ہو جاتی ہے۔اس جمع ہونے سے دور تک والا ربط کمزور پڑتا، اور نقشہ پھر چھوٹے جھنڈوں میں سمٹ جاتا۔
واپسی پر میں نے پل کی ریلنگ پر لٹکتی لالٹینیں دیکھیں۔ایک طرف سخت جانچ تھی جو ہر بار کڑی توڑ دیتی، دوسری طرف نرم نظر تھی جو نقشہ چلنے دیتی۔بات الٹی لگی کہ “دیکھنا” بھی کبھی توڑ دیتا ہے۔اب سوال یہی رہ گیا کہ سب سے لمبی قطار میں بڑا نقشہ واقعی ٹھہر پاتا ہے، یا ہر طرح کی جانچ اسے آخرکار چھوٹا کر دیتی ہے۔